Bitcoin 2.0 & Blockchain 2.0

بٹکوائن 0۔2 اور بلاک چین 0۔2.

ساتوشی ناکاموتو کے وائٹ پیپر 2009 میں شائع ہونے کے وقت سے بٹکوائن میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر کسی مرکزی کنٹرول اور سنٹرل اتھارٹی کے جو اس کو ریگولیٹ کرتی ہو، الیکٹرانیکلی ادائیگیوں کے لیے تشکیل دیا گیاتھا- بہت سارے گروپس جیسے، کیمپیوٹرس کے استعمال کرنے والے، کرپٹوگرافرز، انارکسٹس، سرمایہ کاری کرنے والے، بہت بڑے کاروباری ادارے وال سٹریٹ پر اس نئی کرپٹوکرنسی میں بہت ہی زیادہ دلچسپی دکھا چکےہیں۔

بٹکوائن 0۔2 اور بلاک چین 0۔2 وضاحت

بٹکوائن صفر  اعتبار اور اتفاق رائے رکھنے والانیٹ ورک ہے جو نئ ادائیگیوں کے سسٹم  کو اور مکمل ڈیجیٹل کرنسی کو قابل بناتا ہے ۔ یہ اوپن سورس سافٹ وئیرتھا جو متعارف کروایا گیا اور جو رقم کی پیدائش اور ترسیل کے  لیے کرپٹوگرافی کو استعمال کرتا ہے ۔ یہ سب سے پہلا بغیر کسی مرکزی کنٹرول کے ایک جگہ سے دوسری جگہ ادائیگی کا نیٹ ورک ہے جو اس کے استعمال کنندگان کی طرف سے چلایا گیا ہے بغیر کسی مرکزی اتھارٹی کے، یا کسی ادارے یا مڈل مین کے۔

بٹکوائن یو ایس ڈالر، یور اور چائنیز یوان کے ہو بہو ایک کرنسی ہے؛ صرف یہ ڈیجیٹل ہے، اور اس کو بکھرے ہوئے کمپیوٹروں کے نیٹ ورک سے مدد حاصل ہے جو اس کو مکمل طور پر غیر مرکزی بناتے ہیں۔ بٹکوائنز لاکھوں کمپیوٹروں کے زریعہ سے ایک ریاضیاتی مسئلہ کو حل کرتے ہوئے بناتے ہیں اس یقین دہانی کے ساتھ کہ پہلے سے طے شدہ کوائنز کی تعداد سرکولیشن میں ہر روز لائی جاتی ہے۔

جب کہ بٹکوائن کی قدر ایک مجازی کرنسی اور پے منٹ کے سسٹم کے طور بہت ہی زیادہ غیر مستحکم ہے، بلاک چین کو استعمال کرے ہوئے نئے اپلیکشنز اس بات کو باور کروا رہی ہیں کہ یہ بٹکوائن سے زیادہ قابل قدر ہیں۔

بلاک چین –  ڈبل سپینڈ کے پرابلم کو حل کرتے ہوئ

ڈبل سپینڈ کیا ہے؟

نیوز بی ٹی سی بٹکوائن ایجوکیشن

ڈیجیٹل کرنسی کے بارے عام تصور 1980 سے ہی گردش میں تھا، بہرحال بٹکوائن پہلی ڈیجیٹل کرنسی تھی جس نے اُن مسائل کو حل کیا جو اس سے پیش رو کرنسیوں کو درپیش تھے: جیسے ڈبل سپینڈنگ کا مسئلہ: “کوئی   کس طرح ایسی زر کو کاپی ہونے سے اور ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال ہونے کی روک تھام کر سکتا ہے جو خالصتاً ڈیجیٹل شکل میں ہو ؟”

یہ ایسا مقام ہے جہاں بلاک چین آتا ہے۔ بلاک چین بنیادی طور پر ایک ایسا روزنامچہ ہے جہان تمام نیٹ ورک میں شرکت کار اپنی ٹرانزیکشنز بٹکوائن نیٹ ورک پر رجسٹر کررہے ہوتے ہیں۔

بلاک چین ٹرانزیکشن کا ایک ریکارڈ بیس ہے جسے بٹکوائن سسٹم کی تمام دشواریاں شئیر کرتی ہیں۔ بلاک چین بلکل ڈیٹا بیس کی طرح برتاؤ کرتا ہے؛ یہ ایسی “جگہ” ہے  جہاں نیٹ ورک کے تمام شریک کار اپنا ڈیٹا نیم عوامی دراز کنٹینر جس کو بلاک کہتے ہیں  میں سٹور کرتے ہیں۔ بلاک چین میں رکھنے سے پہلے ہر بلاک کی تصدیق شریک کاروں کی طرف سے کی جاتی ہے۔

لاکھوں مائنرز کی طرف سے نیٹ ورک محفوظ کیا جاتا ہے جو انٹرنل ٹرانزیکشن کی توثیق اور تصدیق کرتے ہیں۔

بلاک چین ایک نیا تنظیمی تصور ہے؛ جو انٹرنیٹ کے اپنے پروٹوکول کے ساتھ تیکنیکی درجے اور بہت ساری اپلیکیشنز کے ساتھ جو کسی بھی اثاثہ جات کی رجسٹری، انونٹری، اور ایکسچینج، بشمول فائنانس کے تمام شعبہ جات، معاشیات، زر، ٹھوس اثاثہ جات، جیسے جائیدار اور محسوس نہ ہونے والے اثاثہ جات جیسے ووٹ، خیالات، نیت، صحت کے اعداد و شمار، کے بارے میں معلومات وغیرہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

جب انٹرنل بٹکوائن سے بٹکوائن کو محفوظ اور درست کرنے کے لیے مائننگ کا کام کیا جاتا ہے توتب یہ ٹرانزیکشن بیش قیمت ہوتی ہے، کور بٹکوائن سورس کوڈ میں حالیہ اضافہ جات اب مائننگ نیٹ ورک ایکسٹرنل نان بٹکوائن ٹرانزیکشنز کو محفوظ اور درست کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ نئی اپلیکیشنز اپنے آپ میں شاید اور بھی زیادہ بٹکوائن کی نسبت بیش قیمت ہو سکتی ہیں۔  جہاں بھی اعتماد کی، تصدیق، ملکیت کا ثبوت یا ایک واقع کو ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے، تو بلاک چین وہاں  ایک انتہائی محفوظ، مؤثر لاگت والا، غیر متمرکز حل جو برقرار رہتا ہے بے شک ایک یا ایک سے زیادہ نوٖڈز پرانی یا ہیکنگ کی کوششوں کی وجہ سے نیچے چلی بھی جائیں۔

یہ نسبتاً نئے تصور کی ضرورت ان پروگرامز کی ترقی پر مبنی ہوتی ہے جو پیسہ  کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ اس نئے درجہ کی اپلیکیشن بٹکوائن پروٹوکول سے، بلاک چین 0۔2 کا تصور پیدا ہوتا ہے۔

ڈیجیٹل اثاثہ جات ایسے اثاثے ہوتے ہیں جن کی ملکیت ڈیجیٹل طریقے سے ریکارڈ کی جاتی ہے۔بٹکوائنز ڈیجیٹل اثاثہ جات ہیں، لیکن جب سے بلاک چین  اثاثہ جات کی غیر متمرکز رجسٹری بنا ہے، علاوہ ازیں بٹکوائنز کے دوسری تمام ڈیجیٹل اثاثہ جات کی ملکیت کی ٹرانسفر کو رجسٹر کرنے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے ایک ڈیجیٹل بانڈ ، کوپنز اور پرنسپل رقم بغیر نگھبانوں کی ضرورت کے اس ایڈریس کو ادا کر سکتا ہے جو ڈیجیٹل بانڈ کو ہولڈ کر رہا ہوتا ہے،

بلاک چین 0۔2

بلاک چین 0۔2 کیا ہے؟

گرچہ بہت زیادہ انویسٹمنٹ بٹکوائن کے روایتی ایکو سسٹم میں اضافہ کرنے کے لیے کی گئی ہے، ایک بڑہتی ہوئی رقم بٹکوائن 0۔2 کمپنیوں پر ڈائریکٹ کی گئی ہے۔

ریٹیل بینکنگ اس نئی بٹکوائن 0۔2 ٹیکنالوجی سے بہت زیادہ بُری طرح متاثر ہے اور اس میں خلل پڑھ رہا ہے۔ رقم جمع کروانے (کھاتہ دار)  والے بینک اکاؤنٹ بیلنس کا ریکارڈ برقرار رکھنے کے لئے عوامی روزنامچہ کا استعمال کر سکتے تھے، رقم کی منتقلیاں، اور عالمی طور پر ٹرانزیکشنز کی تصدیق کرنے کے لیے، تمام بینکنگ کسٹومرز کے بغیر بٹکوائن کے ساتھ براہ راست ڈیل کرنا پڑے گا یا اس کی مارکیٹ پرائس کے بارے میں فکر مند ہونا پڑے گا۔

ملکیت کا ثبوت بزریعہ ٹائٹل ایک بٹن کے دبانے سے منتقل ہو سکے گا، بغیر کسی موقع کے کہ یہ ٹائٹل دہوکہ دہی پر مبنی ہے۔  بلاک چین پر مبنی حل بغیر کسی کرپشن اور رِسک کے اُس کی قدر کھولنے میں استعمال ہو سکتا ہے۔ ٹائٹل رجسٹری ریکارڈز اور ڈِیڈ ٹرانسفرز زمین کی ملکیت یا دوسری بیش قیمت چیزوں، جیسے گاڑیاں، کشتیاں اور موٹر سائکل، نئے مالکان کے نام پر ریکارڈ اور ٹرانسفر کیے جاسکتے ہیں، اس کے ٹائٹل سرچ کی ضرورت کے بغیر، موٹر گاڑیوں کے محکموں، یا دوسرے سرکاری اداروں سے ٹرانزیکشن کے درست اور قابل اعتماد ہونےکی تصدیق لیے بغیر۔

بلاک چین میں صداقت اور ملکیت سے متعلقہ ایک سرایت شدہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ جعل سازی کے خلاف ایک نہایت ہی طاقتور آلہ ہو سکتا ہے۔ خواہ یہ لکژری اشیاء ہوں یا الیکٹرانک آلات، یا کوئی دوسری چیزیں، بلاک چین کو اُن چیزوں کی صداقت کی تصدیق کے لیے استعمال کرنا ایک بیش قدر چیز ہے۔

روایتی کاپی رائٹس اور پیٹینٹس کو ہٹاتے ہوئے دانشورانہ املاک کی وقت پر تصدیق اور اُن کو ریکارڈ کیا جا سکتا ہے، ۔  ایک آدمی ڈیجیٹل فوٹو گراف بناتا ہےکہ وہ کسی بلاگ کو بیچے گا، اور اسے معلوم ہوتاہے کہ اس کا یہ میٹیرئل کاپی اور ڈپلیکیٹ کر لیا گیا ہے بغیر کسی ثبوت اور صلہ کے کہ وہ اس فوٹو کا اصلی مالک تھا۔

معاہدہ جات لاگو اور تصدیق اور ان کی جانچ پڑتال بٹکوائن چین کے زریعہ سے کی جاسکتی ہے، بشمول ملازمت کے معاہدہ جات کے، پٹہ پر لی اور دی ہوئی چیزوں کے، اور خریداری کے معاہدوں کی جن میں دستخط بٹکوائن کے اندر سرایت شدہ ہوتے ہیں۔  جہاں ان معاہدوں کی توثیق، تصدیق اور درستگی کے لیے بہت مہنگی مہنگی عدالتیں اور وکیل چاہیے ہوتے ہیں ایسا ہونا قانونی نظام میں خلل ڈال سکتا ہے۔

بلاک چین 0۔2 اور مستقبل

بٹکوائن اس کے طاقتور مائننگ نیٹ ورک کو اجازت کرنے کے لئے تیار ہے، جو بنیادی طور پر ایک بہت بڑا توثیقی انجن ہے، جو بیرونی غیر بٹکوائن ٹرانزیکشنز کی توثیق اور ریکارڈ کرنے کے لئے ہیے۔ ان خدمات کی قدر۔۔۔ بے اعتمادی کا ایک سسٹم، بہت زیادہ  بیش قیمتی ثابت ہو سکتا ہے کہ خود بٹکوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ تمام مالی، قانونی، اور ریکارڈ رکھنے والی صنعتوں میں اس غیر متمرکز، محفوظ اور سستے طریقہ کار کو استعمال کرنے سے خلل پڑھ سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ صرف ایک سیکورٹیز ایکسچینج اپلیکشنز کو آن لائن لایا جائے تو حقیقی دنیا کی قیمت اربوں ڈالر ہر سال کے حکم پر ہو سکتا ہے۔  بٹکوائن  2.0 کا بلاک چین کی اپلیکیشنز کو فائدہ پہچانا ایک طاقتور ٹیکنالوجی ثابت ہو گا۔

 اگر یہ نظام سرمایہ کاری بینکوں اور اثاثہ جات کے تبادلے کی جگہ ہے تو اس سے مالیاتی منڈیوں  کےکام کے راستے میں ایک گہرا تخریبی اثر پڑے گا۔

Homepage

SUBSCRIBE TO OUR NEWSLETTER