کی قیمت مستحکم ۔ $750 سے بھی اوپر جانے کی توقع Bitcoin


کچھ ہفتوں سے اس کی قیمت میں ایک مثبت رحجان دیکھا گیا ہے۔ اس وقت اس کرنسی کی قیمت $694 پرمرکوز ہے جو کہ فی الوقت اس کے ہدف نظر آتا ہے۔ یہ ہدف آئیندہ چند ہفتوں میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ مہینے Bitcoin کی قیمت تقریبآ $447 تھی۔ پچھلے ہفتے یہی قیمت $519 ہو گئی اور اس وقت اس کی قیمت $694 ہے۔ اس نمبر ایک کرپٹوکرنسی کی قیمت 30 دن میں 30 گنا بڑھی ہے۔ جبکہ عمومی طور پر کرپٹو کرنسی کی قیمت میں یہ اضافہ یومیہ ایک فیصد سے کچھ کم ہی رہتا ہے۔ روایتی اثاثہ جات میں سے کسی بھی شئیرز یا اثاثہ جات کی قیمت آج تک اس رفتار سے اوپر نہیں گئی۔
آپ اس کرنسی کہیے، اثاثہ کہیے یا کچھ بھی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اہمیت ہے تو بس اس بات کی کہ Bitcoin اب تک کا سب سے متاثر کن مالیاتی آلہ ثابت ہوا ہے جو اپنے خریداروں کو یہ سہولت دیتا ہے کہ اس کی مسلسل بڑھتی قیمت سے منافع کمائیں۔ اگر اس کرنسی کی قیمت اسی طرح بڑھتی رہی تو ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس ہفتے کے انجام تک قیمت $750 کا نفسیاتی بیرئیر کراس کر جائے گی اور کرنسی کا کیپیٹل $11 Billion ہو جائے گا
اس کرپٹو کرنسی کی قیمت میں مسلسل اضافے کا ایک سبب چینی سرمایہ کاروں کا اس میں دلچسپی لینا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ چینی یوان کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت ہے۔ اطلاعات کے مطابق چینی کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت کی وجہ Goldman Sachs کا چینی کرنسی پر کیا گیا منفی تجزیہ ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس رحجان کو دوسرے بینک بھی اپنائیں گے اور چینی کرنسی مذید ڈی ویلیو ہوگی۔ ایک اور وجہ چین کی سخت مالیاتی پالیسی ہے جو سرمایہ پر مکمل کنٹرول قائم رکھنا چاہتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار Bitcoin کو ایک بہترین متبادل سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں۔
کیا Bitcoin کی قیمت بڑھنا ایک اچھی خبر ہے؟َ
اس کرپٹوکرنسی کی قیمت بڑھنا اس کے خریداران و سٹاک کنندگان کے لیے کئی اعتبار سے ایک بہت اچھی خبر ہے۔ جوں جوں ٹریڈرز اور سرمایہ کاران Bitcoin میں مذید سرمایہ کاری کریں گے، توں توں اس کی قیمت بڑھتی جائے گی اور کرنسی پر اعتماد بڑھتا جائے گا۔ جیسے جیسے نئے سرمایہ کاران اس کرنسی میں سرمایہ کاری کریں گے، ویسے ویسے اس کرنسی کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ اس کی قیمت کو مستحکم کرتی رہے گی۔
بڑھتی ہوئی Bitcoin کی قیمت کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ پیش آئیندہ halving کے باعث miners کو جو نقصان پیش آسکتا ہے اس کی تلافی ہو جائے گی۔ اس کرنسی کے پلان کے مطابق، ہر رکن کو جو فوائد حاصل ہوتے ہیں وہ ہر چار سال میں پچاس فیصدی کٹوتی کے تابع ہوتے ہیں۔ یہ Bitcoin کے قیام کا آٹھواں برس ہے یعنی اس برس تمام ارکان halving کے تحت مقررہ مقدار Bitcoin کے حق میں کھو دیں گے۔ اگلے 30 دن میں مائنینگ کے ریوارڈز 12.5 کوائن فی بلاک Bitcoin کو دیں گے۔ جوں جوں ریوارڈز کم ہوں گے توں توں وہ مائنرز جو پرانا ہارڈ وئیر استعمال کر رہے ہیں زیادہ مشکل کا شکار ہوں گے۔ الّا یہ کہ Bitcoin کی قیمت 10 جولائی تک پچھلے ماہ کی قیمت سے دگنی ہو جائے۔ اس طرح جو بھی کوائن وہ کھو دیں گے halving کے سبب، ان کی تلافی Bitcoin کی دگنی قیمت کے باعث ہو جائے گی۔
بہت سے لوگ جو اس کرپٹوکرنسی کی معیشت سے منسلک ہیں، اب اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں تاکہ block reward halving کے اثرات کا سامنا کر سکیں۔ ان کی توقع ہے کہ وہ مائنر جو پرانا ہارڈ وئیر استعمال کر رہے ہیں کام بند کریں۔ ایسا اس لئے ہے کہ یہ زیادہ انرجی استعمال کرنے والے ہارڈ وئیر زیادہ مہنگے پڑتے ہیں اور ان کے ریوارڈز نسبتآ کم ہیں۔ اب تک ملی رپورٹس کے مطابق مائنینگ hash rate 5 سے 30 فیصد کے بیچ کم ہو سکتا ہے الٓا یہ کہ اس کرپٹو کرنسی کی قیمت ایک دم بڑھ جائے halving سے ذرا پہلے یا بعد۔
مذید پڑھئے Bitcoin Halving بھی اس کی قیمت گھٹانے میں ناکام رہی
اپنی موجودہ حالت میں Bitcoin بآسانی $750 کا ہدف کراس کر سکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ محض کچھ وقت کی بات ہے کہ یہ کرنسی یہ نفسیاتی حد کراس کر جائے۔ مگر اس کرنسی کی قیمت کا گرنا بھی کچھ عجب نہ ہوگا، بالخصوص تب جب halving سے بچنے اور زیادہ منافع کمانے کے لئے سرمایہ دار اس کرنسی کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیں۔
بہرحال، فی الوقت تو یہ کرنسی بہت اچھی انتظامیہ کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے جیسا کہ قیمت مسلسل اوپر جا رہی ہے۔ مگر اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ آنے والے دنوں میں اس کی قیمت میں کچھ کمی دیکھنے کو آئے گی۔
اعلان لاتعلقی
تبصرہ ہائے، تجزیہ ہائے اور خیالات جو اس مضمون میں آتے ہیں، مضمون نویس کے اپنے ہیں اور لازمی طور پر NEWSBTC کی ترجمانی نہیں کرتے۔


Subscribe to our newsletter

   فاریکس میں ٹریڈنگ کرنےکے بارے میں یہ سوال اور کرپٹو کرنسی مثلاً بٹکوائن، لٹکوان، ڈوجکوائن یا ڈیشکوائن ایکسچینجز پر یا ٹریڈنگ پلیٹ فارم پرحلال ھونے کی حثیت سے گردش کر رہا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کی وجہ  سے بٹکوائن اور زیادہ قبولیت کی طرف بڑہ رہا ہے اس حقیقت کیوجہ سےکہ قانون اور ریگولیشن نے پے پال سروسز کو پاکستان میں داخل ھونے سے ممکنہ حد تک نا ممکن بنا دیا ہے۔ باوجود اس کے کہ میں اس مضمون کا ماہر نہیں ہوں، کچھ صارفین نے کچھ دلچسپ پوسٹس بھیجی ہیں جن کے ساتھ میں متفق ہوں اور ان کو یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔  مہربانی فرما کر نوٹ کریں کہ یہ پوسٹ سٹاک ایکچینج کی طرف سے ہے۔

” بٹکوائن ایک روایتی نوٹ کی طرح کرنسی نہیں ہے لیکن یہ سونے اور چاندی وغیرہ جیسی چیز ہے، کچھ لوگ اس کو کرپٹو کمانڈٹی کا نام دیتے ہیں جو کہ بلاشبہ اندرونی طور پر جوابدہ ہے اورجو ضرورت کے وقت وجود میں لائی جاسکتی ہے۔ نوٹس کی شکل کی کرنسیوں کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اندرونی طور پر ٹریس کی جا سکیں اور وہ لازمی طور پر معاہداتی کاغزات ہوتے ہیں جبکہ بٹکوائن اپنے اندر تمام ٹرانزیگشن کی ہسٹری ایک بڑے بٹکوائن فریم ورک میں رکھتے ہیں۔ اسلام ایک صرف کی جانے والی کمانڈٹی کے بارے میں احتساب چاہتا ہے، آپ ضرورت پوری کرنے کے لیے کرنسی نوٹوں کو ڈپلیکیٹ نہیں کر سکتے جیسا کہ بہت ساری حکومتیں کاغزی زر کی شکل میں کرتی ہیں بٹکوائن کے  اندر موجود احتسابی پن بٹکوائن کمانڈٹی کو ڈھونڈی جا سکنے والی کمانڈٹی  بناتا ہے جو کہ ضرورت پڑنے پر دوگنا نہیں کیا جا سکتا۔ حرام سے ھٹ کر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بٹکوائن ایک کرنسی ہے جو اسلام کے قوانین کے مطابق ہہت موزوں ہے، اسلام چاہتاہے کہ کرنسی کے اندر اس کی قدر موجود ہو، لیکن صرف کاغز کا ایک دستخط شدہ  ٹکڑا نہ ہو جس کی قدر بہت سارے حالات کی وجہ سے کھو سکتی ہے۔ بٹکوائن کے بارے میں ایک خوبی کی بات یہ ہے کہ یہ مرکزی بنک سے کنٹرول نہیں کیا جاتا اور آپ جو بھی بٹکوائن کائن کی شکل میں رکھتے ہیں اور جو کہ عملی طور پر مائن کیا گیا ہو۔ اس لیے اس کی کوئی اندرونی قیمت جو کہ کچھ بھی نہیں ہوتی لیکن نسبتاً اس مشکل کے طور جو اس کو مائن کرنے میں پیش آتی ہے۔ یہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے حقیقی سونے کو مائن کیا جاتا ہے۔ ایک حقیقی کرنسی جس کی اسلام اجازت دیتا ہے وہ قدر میں نہ کمی ہونے والی فطرت رکھنے والی چیز ہے۔ مثال کے طور پر سونا جس کی قیمت ہمیشہ بڑہتی ہے۔ سونے کی قدر بڑھتی ہے کیونکہ سونے کی قیمت بڑھتی ہےکیونکہ اس کے زرائع کم ہیں اور سب کے سب استعمال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ کاغزی کرنسی کی قدر ہمیشہ کم ہوتی ہے کیونکہ نئے نوٹ ضرورت زیادہ ہونے کی وجہ سے پرنٹ کیے جاتے ہیں اور اس طرح سے ہر نوٹ کی قدر کم ہوجاتی ہے۔  بٹکوائن کی مقدار بھی چند ملین تک محدود ہے اور اس کی قدر ہمیشہ بڑھتی ہے۔

میں یہ کہوں گا کہ بٹکوائن کا استعمال زیادہ حلال ہے اس کرنسی نوٹ کی نسبت جو ریزرو بینک کی طرف سے مہیا کی جاتی ہے۔” استعمال کنندہ 4841

میں دیکھتا ہوں کہ بٹکوائن کوئی روایتی کاغز پرمبنی کرنسی نہیں ہے۔  آپ اس کو پیپر والیٹ کی صورت میں لے کر جا سکتے ہیں تاکہ آپ اس کو کاغزی شکل دے سکیں، جبکہ اس کی ایک ریاضیاتی فارمولے کے زریعہ سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔

ہمارا موجودہ مالی نظام سود پر مبنی معیشیت  ہے تو  ہماری اپنی کرنسی پاکستانی روپے کے ساتھ بٹکوائن کا موازنہ کرنا بلکل غلط ہوگا۔ بٹکوائن اور بلاک چین ایک کرنسی سے زیاد ہ ہیں اور ٹیکنالوجی کمانڈٹی یا ڈیجیٹل اثاثہ کے طور پر اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ بٹکوائن کی نسبت موجودہ فیٹ کرنسی زیادہ حرام ہے کیونکہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ایک حکومت اس کو جتنی مقدارمیں اور جب بھی اس کی ضرورت ہو پرنٹ کر سکتی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایکو سسٹم صرف بڑھ رہا ہے، اور بٹکوائن کہاں ختم ہو گا کیونکہ یہ ابھی تک جانا ہی نہیں گیا، یہ بات  اور بھی اسکو پر تجسس بناتی ہے۔

فاریکس کمانڈٹی یا شیئرز کی ٹریڈنگ کرنا اس وقت تک حلال ہے جب تک آپ اس کو عملی طور پر وصول نہیں کرتے۔ جب کہ فاریکس اور کمانڈٹی میں عملی وصولی ممکن ہے۔  کمپنی کی طرف سے ممکن نہیں جبکہ آپ ایک سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کمپنی میں آپ کے شیئرز کی تعدار اس قدر ہے۔  اس بات کو میں زھن میں رکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ اگر آپ سود پر مبنی سیٹ اپ کو بنیاد نہ بنائیں تو کرپٹو کرنسی میں ٹریڈنگ کرنا درست ہے۔  مجھے امید ہے اس سے بہت سی باتیں کلیئر ہو گئ ہوں گی جو آپ کے زہن کو شبہ میں ڈالتی ہیں۔

نیوز بی ٹی سی پاکستان بٹکوائن این ایف سی والیٹ کارڈ متعارف کروانے پر فخر محسوس کرتی ہے۔

این ایف سی

اس کارڈ کا مقصد جاننے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ این ایف سی کیا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق نیئر فیلڈ کمیونیکشن (این ایف سی) سے مراد کمیونیکیشن کا نزدیکی رابطہ یا چھوٹے فاصلوں کے لیے ریڈیو کمیونیکیشن ہے، لیکن اس کا استعمال عام حالات میں خاص پروٹوکول کے سیٹ کے طور پر کام کرتا ہے جو دو الیکٹرانکس آلات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاتا ہے، جن میں سے ایک پورٹ ایبل آلہ جیسے کہ سمارٹ فون کا دوسرے آلہ کے ساتھ رابطہ بناتا ہے تاکہ ان کوقریب لاتے ہوئے ڈیٹا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔

بٹکوائن این ایف سی والیٹ کارڈ

اپنے صارفین کو ان کی پسند کے مطابق پروگرام کرنے والا ری پروگرام ایبل این ایف سی چپ والا کارڈ دینے کا آئیڈیا ہم نے متعارف کروایا۔ اس کارڈ کے بہت سارے استعمال ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس پر آپ اپنے بٹکوائن جمع کر سکتے ہیں اور اس کارڈ کو آپ مرچنٹ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ لیجراس سے ملتے جلتے کارڈ کی فروخت 29 یورو میں کر رہا ہے اوراس کا نام جاوا کارڈ کو چلانے والے امانت دار پلیٹ فارم کے طور پر رکھا گیا ہے جو کہ ایک کھلا ہوا سورس ہے اور جس کا  یہاں اجراء کیا جا سکتا ہے۔

بٹکوائن این ایف سی والیٹ کارڈ  بٹکوائن انڈرائد پر انحصار کرنے والے والیٹ کے طور پر استعمال   کی طرف سے مہیا کیا گیا ہے۔ blockchain.info اور Mycelium کیا جا سکتا ہے جیسےکہ ایک  ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے صارفین تخلیقی زہن رکھتے ہوں  اس لیے ہم نے اپنی نوعیت کا سب سے اعلی این ایف سی چپ استعمال کیا ہے جس میں 10000 سے اوپر رائٹ سائکلز اور 888 بائٹس کی گنجائش ہے۔  

اس کارڈ کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے

یہ بہت آسان ہے۔ آپ کوئی بھی موبائل فون جس میں این ایف سی چل سکتا ہو استعمال کر سکتے ہیں۔  موبائل میں موجود سٹور کو چلائیں اور این ایف سی ٹیگ رائٹر کو ڈاون لوڈ کریں۔

12628394_10208943007762133_3852274856437873053_o

این ایف سی موبائل یا ٹیبلٹ پر اپلیکشن لانچ کریں اور رائٹ ٹیگزآپشن کو دبائیں

12593470_10208936370996218_7110705007209310430_o

آب کے پاس بہت سارے طریقے ہیں کہ آپ ٹیگز پر لکھ سکتے ہیں۔ یا تو آپ نیا ڈیٹا سیٹبنا سکتے ہیں یا آپ سادہ طریقے سے کیو آر کوڈ کو جو آپکے والیٹ ایڈریس کا حامل ہے کو کاپی کیو آرکوڈسے سکین کر سکتے ہیں۔

12604822_10208936371076220_2033339766416445703_o

اگر آپ نیا ڈیٹا سیٹ بنا رہے ہوں تو آپ اس کو  لنککے طور پر بنائیں۔

11057408_10208936373356277_2428056378073598555_o

یو آر آئی ٹائپکے نیچے یو آر آئی( مثلاً ایف ٹی پی، نیوز، ٹیل نیٹ)کو ڈراپ ڈاؤن مینو سے سیلیکٹ کریں۔  یو آر آئی کو اس فارمیٹ میں لکھیں۔

بٹکوائن: ” آپ کا والیٹ ایڈریس یہاں لکھنا چاہیے

1

آپ جیسے چاہتے ہیں ویسے ڈسکرپشن کو اینٹر کرسکتے ہیں اور سیو & رائٹبٹن کو ٹَیپ کریں۔

12604781_10208936376476355_2498299886551986925_o

لکھنا شروع کرنے کے لیے اپنے موبائل فون کے ساتھ کارڈ کو ٹَیپ کریں۔

12525194_10208936378276400_5619604151589988488_o

واہ۔ آپ عملی طور پر بٹکوائن والیٹ کو بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں جسے آپ اپنی جیب میں رکھ سکتے ہیں۔

12525503_10208936377316376_6871253681589210430_o

اگر ایک دفعہ آپ کا والیٹ ایڈریس این ایف سی ٹیگ پرلکھا گیا ہے تو آپ عام طور پر اس کو موبائل آلہ کے ساتھ ٹَیپ کر سکتے ہیں جس پر ٹرانسفر کرنے کے لیے بٹکوائن و الیٹ انسٹال کیا گیا ہو۔

Screenshot_2016-01-16-12-20-35

آپ اریز ٹیگزپر اپلیکیشنز کے آپشن پر جاکر بھی کارڈ کو فارمیٹ کرسکتے ہیں اور پچھلے ایڈریسز کو ختم کر کے نئے ایڈریسز لکھ سکتے ہیں۔ آخر میں ہم اپنے سپانسرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم ان کی مدد سے یہ کارڈ آپ تک بغیر کسی لاگت کے لے کر آئے ہیں۔

اول و آخر ہم جناب حیدر صاحب  جن کا پاکستان  میں پہلا ای کامرس سٹور ہے جہاں بٹکوائن کو مشکل سے ملنے والی اشیاء کے لین دین کے لیے قبول کیا گیا ہے۔  اور دوسرے ہم جناب ثاقب صاحب جو کہ دنیا بھر میں قالینوں اور لیدر کے ملبوسات کا کاروبار کرتے ہیں انھوں نے ادائیگیاں بٹکوائن کے زریعہ سے کیں۔ آخر میں ہم پے بل۔ ای او کی  طرف سے  مددکا  شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس کارڈ کی صارفین تک مفت ترسیل، اور حقیقی طور پر ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جس کےزریعہ سے پاکستان میں بٹکوائن کے زریعہ سے تمام بلوں کی پے منٹس شروع کی گئیں۔


yourstore.pk | sakamaonline.com | paybill.io

نیوز بٹکوائن پاکستان کی ٹیم غیر مرکزیت کے بارے میں دیکھ رہی ہے عام طور پر کرپٹوز اور بٹکوائن کے بارے میں۔ اس لیے ہماری ٹیم نے چھوٹے چھوٹے سیشن کراچی میں شروع کیے ہیں تاکہ بہت سارے لوگوں کو یہ تعلیم دی جاسکے کہ یہ دونوں کیا ہیں اور کیسے کام کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس کے بارے میں جاننا بہت اہم ہےجو کہ طاقت بٹکوائن عوام الناس کے لیے لے کر  آیا ہے۔ بہت سارے لوگ بٹکوائن کو ایک مالی قدر کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن بٹکوائن ایک نظریہ ہے جو غیر مرکزیت کے اصول پر بنایا گیا ہے، اور ایک آدمی سےدوسرےآدمی تک نیٹ ورک کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے نہ کہ صرف زر کی ترسیل کے لیے۔

عوامی ملاپ کے سیشن اور سیمینار 30 جنوری 2016 کو چیناک پر منعقد کیے جائیں گے، جن میں ہم بہت سارے مضامین کا احاطہ کریں گے جیسے بٹکوائن، بلاک چین، پی او ڈبلیو، پی او ایس، مائننک، ٹریڈنگ اربٹریج، کرپٹو کرنسیز  اور سمارٹ رابطوں کےبارے میں بھی  بتائیں گے۔ اس کے پیچھے لوگوں کو یہ سکھانا ہے کہ بٹکوائن ایک کمپنی نہیں ہے، اور ان کو غیر مرکزیت کے بارے میں اچھی آگاہی، کھلا زریعہ، ایک آدمی سے دوسرے آدمی تک ایک ماڈل کے طور پر اس کے موجد کی طرف سے دیکھایا گیا تھا۔ان سیشنز کے پیچھے یہ آیڈیا ہے کہ لوگ بٹکوائن کرپٹو کو عام حالات میں سمجھیں، ان سیشنز میں شرکت کرنے کی فیس صرف 200 روپے ہوگی جو کہ بعد ازاں ایک خیراتی ادارے کو دی دی جائے گی۔

ان سیشنز اور سیمینارز میں ہم آپ کو شرکت اور رجسٹریشن کے لیےخوش آمدید کہتے ہیں، آپ بٹکوائن،ایزی پیسہ اور بنک ٹرانسفر کے زریعہ سے یہ رجسٹریشن فیس ادا کر سکتے ہیں۔  علاوہ ازیں، ہم پہلی بار نیوزبی ٹی سی کی ہوم میڈ این ایف سی متعارف کروائیں گے جس کی مدد سے بٹکوائن والیٹ کارڈ کو اس قابل بنائیں گے کہ آپ  اپنی بٹکوائنز کو آف لائن رکھ سکیں گے۔ یہ سہولت ان چنندہ استعمال کنندگان کو دی جائے گی جو اس مضمون کو کہ اس کارڈ کوکیسے استعمال کیا جانا چاہیے کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کریں گے۔  یہ سیٹیں بہت ہی محدود ہیں اور پہلے آئیں اور پہلے پائیں کی بنیاد پر ہوں گی آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ اپنی رجسٹریشن ایڈوانس میں کروا لیں۔

بٹکوائن کے لیے گوگل سرچز میں 157٪ اضافہ

بٹکوائن کے لیے 2015 کے شروع کے ہفتوں میں سے یہ ہفتہ بہت دلچسپی والا تھا۔ کریگ رائٹ کا سکینڈل، آسٹریلیا کے کامن ویلتھ بینک کی طرف سے اپنے بلاک چین نیٹ ورک کا آغاز کرنا اور یوکرائن کی طرف سے بٹکوائن کی بنیاد پر کمرشل ادائیگیوں کا اعلان کرنا، کرپ ٹو کرنسی کی جگہ بنانے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے بہت لالچ دیا گیا ہے۔

گوگل ٹرینڈز کے مطابق، حقیقت میں بٹکوائن کے لیے پچھلے ہفتہ میں گوگل کی سرچز (کی ورڈز) میں سالانہ ریکارڈ بناتے ہوئے 157٪ حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔

adadadada

ساتو شی ناکاموتو اور کریگ رائٹ

ٹیکنالوجی میڈیا نیٹ ورک کے وائرڈ میگزین اور گزموڈو نے دعوہ کیا ہے، کہ انھوں نے بٹکوائن کے پراسرار خالق ساتوشی ناکاموتو کو ڈھونڈ نکالا ہے۔ وائرڈ اور گزموڈو کے صحافیوں نے مبینہ طور دعوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوتالیس سالہ آسٹریلیا کا کمپیوٹر سائنس دان کریگ رائٹ ، ساتو شی ہی ہے، اس کی پی جی پی پبلک کی اور اس کے بلاگ میں پوسٹس ساتو شی ناکاموتو کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

بہرحال یہ دعوے بعد میں بٹکوائن کے کور ڈویلپر گریگری میکس ویل،جو ایس جی آئی نامی کمپیوٹنگ فرم اور تعملیم ادارے چارلس سٹوآرٹ یونیورسٹی (سی ایس یو) کی نمائندگی کرتا ہے نے غلط ثابت کردیے۔ میکس ویل نے اس کو ثابت کرنے کے لیے یہ بتایا کہ پی جی پی کو لنک کرنے والی کلید کو مصنوعی یا جعلی طریقے سےبنایا گیا۔ ایس جی آئی نے اس بات کی نفی کی کہ اس کا کوئی تعلق رائٹ اور سی ایس یو (وہ یونیورسٹی جہاں سے رائٹ کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ اس نے اِس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی) کے ساتھ ہے۔ یونیوسٹی نے مزید کہا کہ رائٹ کبھی بھی اس یونیوسٹی میں پی ایچ ڈی کاطالب علم نہیں رہا۔

aaaa

وائرڈ اور گزموڈو کی طرف سے یہ بھی دعوے کیے گئے ہیں کہ رائٹ پر ٹیکس چوری، فراڈ کے مقدمے درج ہوئے ہیں اور اس معاملہ میں قومی سطح پر تحقیقات شروع ہوگئی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فیڈرل گورنمنٹ بھی تفتیش کرنے میں شامل ہوگئے ہیں۔

ساتو شی کی اصل شناخت کا بین القوامی سکینڈل بٹکوائن کے حق میں اچھا ثابت نہیں ہوا ہے۔ وائرڈ اور گزموڈو کے دعوں کے جھوٹے ثابت ہونے پر گوگل پہ بٹکوائن کا ٹرینڈ نہایت ہی کم رہ گیا ہے، چند دنوں میں تقریباً آدھا۔

بٹکوائن ڈیبٹ کارڈ کمپنی ای-کوائن نے بنک ٹرانسفر کی انٹیگریشن آپشن جو کہ صارفین کو اُن کے بٹکوائن کارڈ کو ٹاپ اپ کرنے کے زیادہ طریقے بتلاتی ہے کا اعلان کیا ہے۔ ایک برطانوی کمپنی، جو کہ بٹکوائن پلاسٹک کارڈ جاری کرنے والی سب سے پہلی کمپنی مانی جاتی ہے اس نے کہا ہے کہ دنیا بھر سے اس کے صارفین کی طرف سے اُس کو یہ درخواستیں وصول ہوئی ہیں کہ ادائیگیوں کے طریقوں میں اضافہ کیا جائے۔

ای کوائن نے ویزہ برانڈڈ بٹکوائن کے ڈیبٹ کارڈز کو فنڈ کرنے کے لیے بٹکوائن کو ابتدائی طریقہ کار کے طور پر شروع کر دیا ہے۔

”فی الوقت ای-کوائن تیس ممالک، درجنوں بینکوں اور ادائیگیوں کے طریقوں کی معاونت کر رہا ہے”، پیول ماٹویو، جو ای-کوائن کا شریک بانی ہے نےکہا۔ ” ہمارے بہت سے صارفین ترقی پزیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، اور ہم روایتی بینکنگ کی خدمات کو حاصل کیے بغیر اُن صارفین کے لیے ادائیگیوں کو وصول کرنے کے طریقوں میں اور بھی اضافہ کررہے ہیں”۔

اُس نےمزید کہا کہ بینک ٹرانسفرز خاص طور پر ان صارفین کے لیےمناسب اور موزوں ہیں جو یورپ میں رہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے برِاعظم میں تمام چارجز سے مبرا ہیں، جبکہ غیر یورپی صارفین کو کارڈ لوڈ کرنے کے لیےکچھ خصوصی اخراجات ادا کرنا پڑتے ہیں۔

ایک سو پچاس سے زیادہ ممالک میں ای-کوائن کی موجودگی جہاں یہ اپنی خدمات دے رہا ہے اس کے اور بھی مضبوط ہونے کی توقع میں ایک نیا اضافہ ہے۔ ساری دنیا میں ای-کوائن کی موجودگی بٹکوائن کو مین سٹریم کے طور قبول کیا جانا ہے جو اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی ویزہ جیسے ادائیگیوں کے نظام کی وجہ سے اور زیادہ استعمال ہوسکتی ہے۔

ای-کوائن ڈیبٹ کارڈ یورو، امریکی ڈالر، برٹش پاؤنڈ کے زریعے سے لوڈ کیے جاسکتے ہیں، جبکہ بٹکوائن ٹاپ اپس کمپنی کے ورچوئیل ڈیبٹ کارڈز کے زریعے سے دستیاب ہیں۔ مؤخر الذکر کو عالمی سطح پر آن لائن ادائیگیاں کرنے کے لئے استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے.

دنیا بھر میں بٹکوائن ڈیبٹ کارڈ کے جاری کنندہ کی حثیت سے اپنی ساکھ کو اور بھی مضطوط بناتے ہوئے ای-کوائن نے اپنے صارفیں کے فنڈز کو محفوظ رکھنے کےلیے قابل اعتبار سیکیورٹی پروٹوکول کو نصب کرنے کے لیے خصوصی توجہ دی ہے۔ ای-کوائن نےکثیرالدستخطی بٹکوائن سیکیورٹی سروس مہیا کرنے والے ادارے بٹ-گو کے ساتھ شراکت کی ہے تاکہ ڈیٹا کے چوری یا ہیکرز کے حملوں جو بٹکوائن کے اکاؤنٹس کی پرائیویٹ کلیدوں کو کمزور کرتے ہیں سے بچایا جا سکے۔

ای-کوائن کے بارے میں مزید جاننے اور ان کی خدمات کے متعلق جاننے کے لیے یہ سائٹ دیکھیں۔

پے بل پھر سے شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس بار معاملات کچھ مختلف ہوں گے۔ وہ دن جا چکے جب آپ ادائیگی کرنے کے لیے بل کا انتظار کرتے تھے۔ پےبل صارفین کے تجربہ کو زہن میں رکھ کر پھر سے تشکیل دیا گیا ہے۔
یہ سائٹ اب فوری بل کی ادائیگیوں کے لیے عوامی حلقہ میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان میں بی ٹی سی یا بٹکوائن کے زریعہ سے تمام بلوں کی ادائیگی کرنے کے لیے خودکار طریقہ سوچا گیا ہے۔ اساسی مرمت کی گئی ہے اور نیا پائتھان انجن پے بل کے دل کے اندر جاگزین ہوجاتا ہے اور اس کو پہلے کی نسبت زیادہ تیز رفتار بناتا ہے۔
پے بل کے پیچھے یہ نظریہ تھا کہ یہ بلوں کی ادائیگیوں کے لیے ای بے کی طرح کا ہوجائے۔ جہاں ساری دنیا کے مرچنٹس کو اجازت ہو کہ وہ سائن اپ کرتے ہوئے وصول کنندہ کی وصولی کو فوری محفوظ کرسکیں اور کسی کے لیے بھی بلوں کی ادائیگیوں کو دل کی ایک دھڑکن میں مکمل کر سکیں۔ مسٹر حسن جو کہ پے بل کے شریک بانی ہیں نے کہا ہے ” ہم اس کو پاکستان میں کچھ عرصہ کے لیےچلانا چاہتے ہیں اس سے پہلے کہ ہم دوسرے ممالک کو بھی اس میں شامل کریں۔ ہم یہ یقین دہانی کرلینا چاہتے ہیں کہ اس بار یہ درست طریقے پر چلے۔”
اس لیے اب آپ پاکسان میں اپنے بل فوری اور محفوظ طریقے سے بی ٹی سی کے زریعہ سے ادا کرسکتے ہیں۔ پے بل پلان کو اس طرح سے سیٹ کیا جاتا ہے کہ بی ٹی سی کے نرخ لوکل ٹریڈنگ پلیٹ فارم سے لیے جاتے ہیں جس ملک میں بل ادا کیا جارہا ہے۔ اس کی یقین دہانی کر لی جاتی ہے کہ اس بل کے مرچنٹ / وصول کنندہ کے لیے بنیادی قیمت
فوری تبادلے کی بدولت بیک اینڈ پر نقصانات سے محفوظ رہے۔ پاکستان میں پے بل اردو بٹ بی ٹی سی کو پاک روپے میں تبدیل کرنے کےلیے استعمال کرے گا۔

پاکستان کے ایک حمایتی کی طرف سے چھپنے والے مضمون میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان بٹکوائن میں دلچسپی لے رہا ہے۔ یہ نظریہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے ایگزیگٹو ڈائریکٹر محمد اشرف کی طرف سے پیش کیا گیا کہ ہارش پلے جو کہ ریڈ ہیٹ انکارپوریشن میں دنیا بھر کی کمیونٹی ارکیٹکچر لیڈرشب کا گلوبل ہیڈ ہے اس نظریہ کا حامی ہے کہ بٹکوائں یا بٹکوائن سے متعلقہ ٹیکنالوجیز پاکستان کے مسائل کو حل کر سکتی ہیں۔ اس پر اشرف نے جواب دیا کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان بہت غوروخوص کےبعد اور حالیہ ریگولیٹر کی حثیت میں بٹکوائن کو قانونی حثیت دینے کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہے۔

بٹکوائن کیا ہے ؟

ہم میں سے بہت سارے بٹکوائن کے بارے میں پہلے سے جانتے ہیں۔ لیکن یہ نوٹ کرنا بہت اہم ہے کہ بٹکوائن ایسی شئے ہے جیسا بھی ہم اس کو بنائیں گے۔ سنگاپور نے ورچوئیل کرنسی ایکسچینجز کو رجسٹر کیا ہے، جرمنی اس کو پرائیویٹ زر مانتا ہے، امریکہ اس کو ”ڈیجیٹل اثاثہ کے طور ” مانتا ہے۔ میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو سب سے پہلے کوئی ریگولیٹری اتھارٹی یا ریگولیشنز کو قائم کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ
بٹکوائن ہےکیا۔

بٹکوائن اہم کیوں ہے؟

پاکستان کے حالیہ مسائل میں جہاں پاکستان کے لوگ خاص طور پہ چھوٹے پیمانے پر ای کامرس کی سائٹس، آزادانہ کمیونٹی اور آئی ٹٰی سوفٹ ویئر بنانے والی ٹیمز اپنی وصولیات کو پاکستان میں وصول کرنے کےلیے مشکلات سے دوچار ہیں۔
پے پال زیر بحث ہے، لیکن پاکستان میں پیمنٹ گیٹ وے لائسینس علاوہ ازیں موجودہ ریگولیشنز پاکستان میں پیسے کی ترصیل اور وصولیات میں مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ ابھی بٹکوائن میں ڈیپازٹ کرنے والوں کی دلچسپی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ یا مالیاتی اداروں کے مفادات اس کی طرف راغب نہ ہونا ہے، یا یہ مضحکہ خیز ہو سکتا ہے کہ موبائل اور نان بینکنگ پے مینٹس جیسےایزی پیسہ اور یو پیسہ میں بہت بڑی انوسٹمینٹ کرنے کے بعد وہ یہ چاہیں کہ لوگوں کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ مڈل مین کے بغیرہی براہ راست ٹرانزیکشن مکمل کرلیں اور اس طرح سے ان مالیاتی اداروں کا منافع صفر ہو جائے۔ مزید برآں اُردو بِٹ پاکستان میں واحد مکمل طور پور بٹکوائن ٹریڈنگ پلیٹ فارم ہے جس نےصرف ایک سال میں 700 بی ٹی سی سے زیادہ کی ٹرانزیکشن کی ہیں اور جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بٹکوائن کے لیے کیسا ہے۔

بٹکوائن کی حثیت کیا ہے؟

غیر ممالک میں پاکستانی کارکنون نے 6506اشاریہ 5ملین ڈالرز کی رقوم مالی سال 2016کے پہلے چار ماہ جولائی تا اکتوبر میں پاکستان بھیجیں جو 6184اشاریہ 34 ملین ڈالر کے جو پچھلے مالی سال میں پاکستان بھیجی گئی تھیں سے مقابلتاً 5اشاریہ 21فیصد زیادہ تھیں۔ ان رقوم کی مقدار اور بھی بڑھ جاتی جو مختلف چینلز کے زریعہ سے بھیجی گئیں اور جن پر ترسیل کی لاگت20 فیصد ادا کی گئی ۔ اگر اس ترسیل کی لاگت کو ختم کردیا جائے تو ایسا کرنا نہ صرف زر کے زخائر میں اضافہ کا باعث بنے گا، کیونکہ ترسیل کرنے والے عالمی بنکوں کی فیس صفر ہوجائے گی بلکہ اس کےبدلہ میں ہم پاکستانی روپے کی قدر بڑہانے میں مدد بھی کر سکیں گے۔ کیا بٹکوائن قانونی ہے؟ یہ غیر قانونی بھی نہیں ہے، اگر آپ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ دیکھیں تو اس پر کسی طرح کا کوئی نوٹیفیکیشن یا سرکلر پاکستان میں بٹکوائن کی حمایت یا مخالفت کے بارے میں موجود نہیں۔

ہم 2015 سے دیکھ رہے ہیں کہ بٹکوائن کو قبول کرنے کے رحجان میں اضافہ جاری ہے۔ اس چڑہاؤ کے رحجان میں نئے آنے والے ٹاپ اپ 24 ہیں، جو کہ اپنا مین آفس یو اے ای میں اور برانچ آفس یو کے میں چلا رہے ہیں۔ ٹاپ اپ 24 پری پیڈ لوڈز/ ٹاپ اپس ایک سو بیس ممالک سے زیادہ ممالک میں بٹکوائن اور پے پال کو ادائیگی کو طور پر قبول کر رہے ہیں۔

ٹاپ اپ 24 کے مالک اور اِس کے چلانے والے عظیم جاوید ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی آن لائن ای مارکیٹ میں گُھسا جائے۔

ٹاپ اپ 24 کیا ہے؟
ٹاپ اپ 24 اپنے آپ کو موبائل فون کے بیلنس کو ری چارج کرنے والی سروس پروائڈر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ وہ یہ ریچارج سروس 7/24 پوری دنیا میں خاص طور پر پاکستان میں دے رہے ہیں جہاں 64٪ لوگوں کے پاس موبائل فون ہیں۔ پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی حثیت سے آن لائن یا انٹرنیٹ کے زریعہ سے موبی لنک، ٹیلی نار، یُو فون، زونگ اور وارد کے موبائل لوڈز کرنے میں پیچھے رہ گیا ہے۔

ٹاپ اپ24 سب سے اوپر نظر آنا چاہتا ہے۔
ٹاپ اپ24 ان تمام استعمال کنندگان کو اور ان کے عزیز دوستوں کے لیے جو دوسروں ملکوں میں رہتے ہوں موبائل فون کی پری پیڈ چارجنگ کےلیے غیرمتوازی سروس مہیا کرنا چاہتی ہے اس بات کا اطمینان کرتے ہوئے کہ کم از کم بیلنس ری چارج پاکستان میں سو روپے ہو اور بیرونِ ملک پانچ ڈالرہو۔

پاکستان کی مارکیٹ میں ایک ڈالر برابر سو روپے ری چارج بہت ہی اچھا ریٹ ہے۔ اور دوسری بات جو زہن نشین کرنے کی ضرورت تھی وہ یہ تھی کہ ٹاپ اپ 24 کا خیال موبلٹی مہیا کرنے کے لیے سوچا گیا تھا۔ اس وجہ سے استعمال ہونے والے آلات کی موزونیت اور رینج کو مد نظر رکھا گیا۔

مقابلے میں مات دینا
نیوز بی ٹی سی پاکستان کے ساتھ بات کرتے ہوئے محترم عظیم نے کہا ”کہ پاکستان آن لائن کی موجودگی میں مشکل سے ہی کوئی حریف ہوں گے” ” اس کی سروس کا مقصد پاکستان میں آن لائن پری پیڈ ری چارج سروس مہیا کرنے اور لاگت میں نہایت ہی کم ہونے میں نمبر ایک پر ہونا ہے۔ “بہرحال بین القوامی مقابلے میں مات دینے کے لیے انہوں نے تعارف کنندگان کو 10فیصدبونس دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ عالمی طور پر پری پیڈ موبائل ری چارجنگ سروس مہیا کرنے میں ہمارے بہت ہی مضبوط حریف موجود ہیں۔ آن لائن سسٹم میں انکی بھرپور مضبوط موجودگی ہے، ہمارا مقصد بین القوامی ٹاپ اپس میں بہترین سروس اور بونس دیتے ہوئے اُن سے آگے نکلنا ہے۔” عظیم

ٹاپ اپ24 کیسے کام کرتا ہے؟
اپنے موبائل کے لیے ٹاپ اپ حاصل کرنا بہت آسان ہے۔
https://www.topup24.com/account/register/

اس سائٹ کو وزٹ کریں اور اپنا ای میل ایڈریس مہیا کریں اور لاگ ان کرنے کےلیے اپنے دیے ہوئے ای میل ایڈریس پر معلومات حاصل کریں۔
یا
اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے اس سائٹ پر لاگ اِن کریں۔
https://www.topup24.com/account/login

ایک بار آپ لاگ ان ہوجائیں تو اپنا موبائل نمبر مہیا کریں اور پے منٹ کا طریقہ چُنیں۔ اگر آپ کی پے منٹ منظور ہو جائے تو فوراً آپ کے موبائل فون پر بیلنس آ جائے گا۔ ایسا کرنے میں عام طور پر پندرہ سے بیس سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔

سپورٹ
ٹاپ اپ24 پاکستان اور بین القوامی طور پر موبائل فون کو ری چارج کرنے والی سروس کے طور پر پہلے سے طے شدہ طاقت بننے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

آپ لائیو گفتگو، ای میل اور فون کے زریعہ سےدرج زیل پر رابطہ کرسکتےہیں۔

پاکستان کے لیے فون
+92 300 614 5155

یو اے ای کے لیے فون
+971 503065123

سکائپ
azy0wzy

ای میل سپورٹ
[email protected]

بٹکوائن کی طرف آنے کی وجہ بہت سے لوگوں کے نزدیک مائننگ کے زریعہ سے جلدی پیسہ بنانا ہے۔ ایک بار وہ ایسا کرتے ہیں، بہرحال وہ یہ احساس کرتے ہیں کہ بٹکوائن کی خوبصورتی اس کی تھیوری میں پوشیدہ ہے جو ساتوشی ناکاموتو کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ یہ نظریہ ڈیجیٹل اثاثہ جات، زر اور کرنسی کو مرکزی کنٹرول سے نکالنا تھا۔ ابھی حال ہی میں ایک ٹیکنالوجی جو کہ بلاک چین ہے پر جو بحث چل رہی لوگ یہ بات محسوس کرنےمیں ناکام ہو گئے ہیں کہ یہ بلاک چین یا بٹکوائن نہیں ہیں جو خود بخود مشہور ہو گئے ہیں، بلکہ یہ اِس اصول یعنی آپ کے فنڈز پر مبنی ہے جو کہ آپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

آج تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بہت سارے لوگ مائننگ فارمز بنا رہے ہیں یا ان کو بٹکوائن یا کرپٹو کرنسی میں ٹریڈنگ کرتے ہوئے ان فارمز کو بڑا بنا رہے ہیں۔ جب میں یہ یقین کرتا ہوں کہ بٹکوائن ایکسچینجز نے اس کو آگے بڑہانے میں اور عوام الناس کے لیے اس کی موجودگی برقرار رکھتے اور مدد کرتے ہوئے بہت بڑا تاثر قائم کیا ہے، درحقیقت ہم بٹکوائن کو اس طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے جس پر اس کو چلنا ہے یعنی ہم ابھی تک اس کو وقفہ کے ساتھ غیرمرکزیت کی طرف لےکر جارہے ہیں۔ بٹکوائن سے یہ توقع رکھی گئی ہے کہ یہ تھرڈ پارٹی جو کہ آپ کے فنڈز کو ہولڈ کرکے رکھتی ہے اور آُپ کو ان فنڈز کے ایک فرد سے دوسرے فرد تک ادائیدگی کے طریقہ کار یعنی سسٹم مکمل ہونے تک استعمال پر چارج کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اور آگے بڑہیں تو یہ بہت اہم ہے کہ ہم بٹکوائن کو خریدو فروخت کے لیے استعمال کریں اور ہم ہر جگہ بٹکوائن کو استعمال کرنے کا موقع پیدا کریں۔

اب دماغ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیامیں اس کو سوائے قدر کے طور پر سٹور کرنے کے علاوہ یا اس کو سیف گارڈ کے طور ایسی صورتِ حالات جیسے یونان میں پیدا ہوئی استعمال کرسکتا ہوں؟ اچھا اب آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ بڑے ناموں والی کمپنیوں نے اب بٹکوائن کو ادائیدگیوں کے لیے قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے پیچھے یہ راز کار فرما ہے کہ بٹکوائن کو قبول کرنا کریڈٹ کارڈ کی نسبت بہت سستا ہے، بغیر کسی چارج بیک معاملہ کے، علاوہ ازیں بہت ہی کم فیس یعنی 0.0001 بی ٹی سی لوگوں کو راغب کرتی ہے کہ وہ ادائیدگیوں میں بٹکوائن کو قبول کریں۔ سروسز جیسے ڈیل، مائکروسافٹ، وُلچر (وی پی ایس سروس)، نیم چیپ (ڈومین اور ہوسٹنگ سروسز)، ایکسپیڈیا (ہوٹل، ایرلائن اور لوکل ٹرانسپورٹ)، چیپ ایئر (ایئرلائن ٹکٹس)، اور ٹاپ اپ 24 ( موبائل پری پییڈ کریڈٹ) نے دنیا میں ہر ایک کے لیے آسان کردیا ہے کہ وہ بٹکوائن سے استفادہ کریں۔

پاکستان میں رہتے ہوئے جہاں شاید کریڈٹ کارڈ کا قبول کرنا دنیا میں سب سے کم ہے یہاں ہم بٹکوائن کو ایک گیٹ وے کے طورپر دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی عام آبادی غربت کے درجہ سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس لیے حقیقت میں دوسرے ملکوں کی نسبت انٹرنیشنل گیٹ ویز کو استعمال کرنے تک اس کی رسائی نہیں ہے۔ بٹکوائن ٹنل کے اس پار ایک چمکدار روشنی ہو سکتی ہے، ڈونیشنز، ادائیدگیاں، ایک جگہ سے دوسری جگہ رقم کی ترسیل، مائکرو بٹکوائن کو استعمال کرتے ہوئے کی جا سکتی ہیں۔ اور اب آپ کے لیے آپ کے پاس بٹکوائن ایکسچینجز کے علاوہ بھی اِس کو استعمال کرنے کی جگہ ہے۔ لیکن اگر آپ قدامت پسند ہیں اور بٹکوائن کو ابھی تک منافع کے لیے ٹریڈ کرنا چاہتے ہیں آپ ہمیشہ ہمیں اُردو بِٹ پر جوائن کرسکتے ہیں۔

اس نوٹ کے آخر میں، بٹکوائن کو ایسے استعمال کرنا شروع کریں جو اس کا مقصد ہے۔